واقعہ حرہ : یزید ابن معاویہ کا مدینہ پر حملہ

حرہ کا حادثہ تقریبا  ۶۳ھئمیں پیش آیا ۔ مختصر طور پر اس حادثہ کی تفصیلات کچھ اس طرح ہےں کہ ۶۳ئہجری میں بنو امیہ کا کم تجربہ نوجوان مدینہ کا حَکم مقرر ہوا اس نے خیال کیا کہ شیعیان مدینہ کا دل جیتنے کے لئے بہتر ہوگا کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو شام جاکر یزید سے ملاقات کرنے کی دعوت دی جائے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا مدینہ کے چند سربرآوردہ افراد ، اصحاب نیز دیگر معزز ین سے منتخب کئے جس میں اکثریت امام زین العابدین علیہ السلام کے عقیدت مندوں میں شمار ہوتی تھیں ان لوگوں کو شام جانے کی دعوت دی گئی کہ وہ جائیں اور یزید کے لطف و کرم دیکھ کر اس سے مانوس ہو جائیں اور اس طرح اختلافات میں کمی واقع ہو جائے ۔یہ لوگ شام گئے اور یزید سے ملاقات کی چند دن اس کے مہمان رہے ان لوگوں کی خوب پذیرائی کی گئی اور رخصت ہوتے وقت یزید نے ہر ایک کو کافی بڑی رقم ( تقریبا پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ درہم تک )سے نوازا لیکن ۔

            جیسے ہی یہ لوگ مدینہ واپس پہنچے ، چوں کہ یزیدی در بار میں پیش آنے والے المیئے انھوں نے اپنی نظروں سے خود دیکھ لئے تھے لہٰذا خوب کھل کر یزید کو مورد تنقید قرار دیا اور نتیجہ بالکل ہی بر عکس ظاہر ہوا ان لوگوں نے یزید کی تعریف و توصیف کرنے کے بجائے ہر خاص و عام کو اس کے جرائم سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ۔ لوگوں سے کہا: یزید کو کس بنیاد پر خلیفہ تسلیم کیا جا سکتا ہے جب کہ شراب و کباب میں غرق رہنا اور کتوں سے کھیلنا اس کا بہترین مشغلہ ہے ۔ کوئی فسق و فجور ایسا نہیں ہے جو اس کے یہاں نہ پایا جاتا ہو ۔ لہٰذا ہم اس کو خلافت سے معزول کرتے ہیں ۔

            عبداللہ بن حنظلہ (۳) جو مدینہ کی نمایاں اور محبوب شخصیتوں میں سے تھے یزید کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں پیش پیش تھے ان لوگوں نے یزید کو معزول کرکے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینی شروع کر دی۔

            اس اقدام کا نتیجہ یزید کی طرف سے براہ راست رد عمل کی صورت میں ظاہر ہوا اس نے اپنے ایک تجربہ کار پیر فرتوت سردار ، مسلم بن عقبہ کو چند مخصوص لشکر یوں کے ساتھ مدینہ روانہ کیا کہ وہ اس فتنہ کو خاموش کر دے ۔ مسلم بن عقبہ مدینہ آیا اور چند روز تک اہل مدینہ کی قوت مقابلہ کو پست کرنے کے لئے شہر کا محاصرہ کئے رہا یہاں تک کہ ایک دن شہر میں داخل ہوا اور اس قدر قتل و غارت گری مچائی اور اس قدر ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا کہ تاریخ اسلام میں وہ آپ اپنی مثال ہے ۔

            اس نے مدینہ میں کچھ ایسا ہی قتل و غارت گری اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم کیاتھا کہ اس حادثہ کے بعد اس کا لقب ہی مسرف پڑگیا اور لوگ اس کو ” مسرف بن عقبہ “ کے نام سے پکارنے لگے ۔ حادثہ حرہ سے متعلق واقعات کی فہرست کا فی طویل ہے اور میں زیادہ تشریح میں جانا نہیں چاہتا صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ یہ واقعہ تمام مسلمانوں خصوصا اہلبیت علیہم السلام کے دوستوں اور ہمنواؤں میں بے پناہ خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بنا ، خاص طور پر مدینہ تقریبا خالی ہو گیا کچھ لوگ بھاگ گئے کچھ لوگ مار ڈالے گئے اہلبیت (ع) کے کچھ مخلص و ہمدرد مثال کے طور پر عبداللہ ابن حنظلہ جیسے لوگ شہید کر دیئے گئے اور ان کی جگہ خالی ہو گئی ۔ اس حادثہ کی خبر پوری اسلامی دنیا میں پھیل گئی اور سب سمجھ گئے کہ اس قسم کی ہر تحریک کا سد باب کرنے کے لئے حکومت پوری طرح آمادہ ہے اور کسی طرح کے اقدام کی اجازت دینے کو ہرگز تیار نہیںہے ۔

            اس کے بعد ایک اور حادثہ  — جو مزید شیعوں کی سر کوبی اور ضعف کا سبب بنا  —  جناب مختار ثقفی کی کوفہ میں شہادت اور پورے عالم اسلام پر عبد الملک بن مروان کے تسلط کی صورت میں ظاہر ہوا ۔

            یزید کی موت کے بعد جو خلفاء آئے ہیں ان میں اس کا بیٹا معاویہ ابن یزید ہے جو تین ماہ سے زیادہ حکومت نہ کر سکا ۔ اس کے بعد مروان بن حکم کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور تقریبا دو سال یا اس سے کچھ کم اس نے حکومت کی اور پھر خلافت کی باگ ڈور عبد الملک بن مروان کے ہاتھ میں آگئی جس کے لئے موٴرخین کا خیال ہے کہ وہ خلفا ئے بنو امیہ میںزیرک ترین خلیفہ رہا ہے ۔ چنانچہ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ :

            ” کان عبد الملک اشد ھم شکیبہ و اقساھم عزیمہ “

            عبد الملک پورے عالم اسلام کو اپنی مٹھی میں جکڑ لینے میں کامیاب ہو گیا اور خوف و دہشت سے معمور عامرانہ حکومت قائم کر دی۔

             حکومت پر مکمل تسلط حاصل کرنے کے لئے عبد الملک کے سامنے صرف ایک راہ تھی اور وہ یہ کہ اپنے تمام رقیبوں کا صفایا کر دے مختار جو شیعیت کی علامت تھے ، مصعب بن زبیر کے ہاتھوں پہلے ہی جام شہادت نوش فرما چکے تھے لیکن عبد الملک شیعہ تحریک کا نام و نشان مٹا ڈالنا چاہتا تھا اور اس نے یہی کیا بھی ۔اس کے دور میں عراق خصوصا کوفہ جو اس وقت شیعوں کا ایک گڑھ شمار کیا جاتا تھا ،مکمل جمود اور خاموشی کی نذر ہو گیا۔

            بہر حال یہ حوادث کربلا کے عظیم سانحہ سے شروع ہوئے اور پھر یکے بعد دیگرے واقعہ حرہ میں اہل مدینہ کے قتل و غارت ، عراق میں تو ابین (۴) کی بیخ کنی ،جناب مختار ثقفی اور ابراہیم بن مالک اشتر نخعی نیز دیگر اکابرین شیعہ کی شہادت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آزادی کے حصول کی غرض سے ہر تحریک چاہے وہ مدنیہ ہو یا کوفہ( کیوں کہ اس وقت یہ دونوں شیعوں کے اہم ترین مراکز تھے ) کچل کر رکھ دی گئی ، شیعیت سے متعلق پورے عالم اسلام میں ایک عجیب خوف و ہراس پیدا ہوگیا ۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ائمہ طاہرین علیہم السلام سے وابستہ رہ گئے تھے اپنی زندگی نہایت ہی غربت و کس مپرسی میں بسر کر رہے تھے ۔

(۱)۔ بحار الانوار ج/۴۶ ص/۱۴۳۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج/۴ص/۱۰۴

(۲)۔ یہ واقعہ ابن اثیر نے اپنی تاریخ الکامل میں نقل کیا ہے ۔

(۳)۔  حنظلہ ہی وہ نو جوان ہیں جو قبل اس کے کہ ان کی شب عروسی تمام ہو پیغمبر اسلام (ص) کی فوج میں آکر شامل ہو گئے اور میدان احد میں شہادت کا جام نوش فرمایا اور ملائکہ نے ان کو غسل دیا اسی لئے یہ حنظلہ غسیل الملائکہ کے نام سے معروف ہوئے ۔

(۴)۔  توبین کی تحریک واقعہ کربلا کا سب سے پہلا رد عمل ہے جو کوفہ میں ظاہر ہوا ۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد بعض شیعوں نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے مواخذہ و عتاب کا مستحق قرار دیا کہ انھوں نے امام کی دعوت پر لبیک کیوں نہ کہی اور مدد کے لئے میدان میں نکلنے سے کیوں گریز کیا چنانچہ انھوں نے محسوس کیا اس گناہ سے اپنے دامن کو پاک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ امام کے دشمنوں او ر قاتلوں سے حضرت کے خون کا انتقام لیا جائے ، لہٰذا وہ لوگ کوفہ آئے اور اکابرین شیعہ میں سے پانچ افراد کو جمع کرکے ان سے اس سلسلہ میں گفتگو کی اور نتیجہ کے طور پر سلیمان بن صرد خزاعی کی قیادت میں کھلے طور پر مسلحانہ تحریک کا آغاز کر دیا ۔

            شب جمعہ ۲۵/ ربیع الثانی  ۶۵ء ہجری کو امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک پر زیارت کے لئے جمع ہوئے اس طرح فریاد و گریہ کرنا شروع کیا کہ آج تک اس گریہ و زاری کی مثال نہیں ملتی ۔ اس کے بعد قبر امام کو وداع کہہ کر شامی حکومت سے نبرد آزما ئی کے لئے شام کا رخ کیا اور پھر لشکر بنو امیہ سے جم کر جنگ ہوئی اور سب کے سب مارے گئے ۔

            توابین کی تحریک کاایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ لوگ با وجود اس کے کہ کوفہ میں تھے پھر بھی شام گئے اور بر سراقتدار حکومت سے جنگ کی تاکہ یہ ثابت کر دیں کہ امام حسین علیہ السلام کا قاتل کوئی ایک شخص یا چند اشخاص نہیں ہیں بلکہ یہ حکومت ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا ہے ۔

اس دور میں امام علیہ السلام کا موقف

            بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر امام زین العابدین علیہ السلام بھی بنو امیہ کے نظام حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہوتے تو وہ بھی علم بغاوت بلند کر دیتے یا کم از کم ( مثال کے طور پر ) عبد اللہ بن حنظلہ یا مختار ثقفی سے ملحق ہو جاتے یا یہ کہ آپ (ع) ان لوگوں کی رہبری قبول کر لیتے اور کھل کر مسلحانہ مقابلہ کرتے ۔ لیکن اگر اس دور کے حالات ہمارے پیش نظر ہوں جس میں امام سجاد علیہ السلام زندگی بسر کر رہے تھے تو ہمارے لئے سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ اس طرح کی فکر ائمہ علیہم السلام کے مقصد سے ( جسے ہم بعد میں بیان کریں گے ) قطعی میل نہیں کھاتی ۔

            ان حالات میں اگر امام زین العابدین علیہ السلام یا ائمہ علیہم السلام میں سے کوئی بھی ہوتا اور کھل کے کسی مخالف تحریک میں شامل ہو جاتا یا تلوار لے کے سامنے آگیا ہوتا تو یقینی طور پر شیعیت کی جڑیں ہمیشہ کے لئے کٹ جاتیں ۔اور پھر آئندہ کسی زمانہ میں مکتب اہلبیت علیہم السلام کے نشو نما اور ولایت و امامت کے قیام کی کوئی امید باقی نہ رہ جاتی سب کچھ ختم او ر نیست و نابود ہوکر رہ جاتا ۔

            بظاہر یہی وجہ نظر آتی ہے کہ امام سجاد علیہ السلام مختار ثقفی کے معاملہ میں ان سے کھل کر کسی طرح کی ہم آہنگی کا اعلان نہیں کرتے اگر چہ بعض روایتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ (ع) کا مختار ثقفی سے مخفی طور پر رابطہ قائم تھا چنانچہ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ امام نے علی الاعلان ان سے کبھی کسی طرح کا رابطہ نہ رکھا بلکہ بعض روایتیں تو کہتی ہیں کہ حضرت عام نشستوں میں مختار سے اپنی ناراضیگی کا اظہار بھی کرتے تھے اور یہ چیزبالکل فطری ہے ظاہر ہے آپ(ع) اس سلسلہ میں تقیہ سے کام لے رہے تھے تاکہ دشمن کو ان کے درمیان کسی خفیہ رابطہ کا شک بھی نہ ہونے پائے ۔

            اگر مختار کو کامیابی نصیب ہو جاتی تو حکومت اہلبیت (ع)کے سپرد کر دیتے لیکن شکست کی صورت میں جیسا کہ ہوا ۔امام زین العابدین علیہ السلام اور مختار کے درمیان رابطہ کا علم ہو جانے کے بعد خود امام علیہ السلام اور آپ کے دوستوں اور ہمنواؤں کو بھی اس کی سخت قیمت چکانی پڑتی اور شاید شیعیت کا قلع و قمع ہو گیا ہوتا لہٰذا حضرت امام سجاد علیہ السلام ان سے کھل کر کسی طرح کا رابطہ بر قرار کرنا کسی طرح اپنے موقف کے لئے مفید نہیں سمجھتے ۔

            روایت میں ہے جس وقت حرہ کے موقع پر مسلم ابن عقبہ مدینہ منورہ پہنچ رہا تھا کسی کو شک نہ تھا کہ سب سے پہلی شخصیت جو اس کے ظلم و جور کا نشانہ بنے گی وہ امام زین العابدین علیہ السلام کی ذات مبارک ہے لیکن حضرت (ع) نے اپنی تدبیر و فراست سے کام لیتے ہوئے ایسی حکیمانہ روش اختیار کی کہ یہ بلا آپ (ع) سے دور ہو گئی چنانچہ امام (ع) کا وجود باقی رہا اور اس طرح شیعیت کا اصل محور اپنے مقام پر محفوظ رہ گیا ۔

            البتہ وہ روایتیں جو بعض کتب منجملہ ان کے خود بحار الانوار میں بھی نقل کی گئی ہیں کہ امام علیہ السلام نے مسلم بن عقبہ کے سامنے اپنی حقارت و عاجزی کا اظہار فرمایا، اس کو بھی میں کسی صورت قبول کرنے پر تیار نہیں ہوں بلکہ میری نظر میں یہ قطعی امام (ع) پر جھوٹ اور افترا باندھا گیا ہے کیوں کہ :۔

   اولاً۔    یہ کہ ان میںسے کوئی روایت صحیح اسناد پر منتہی نہیں ہوتی ۔

   ثانیاً۔    یہ کہ ان کے بالمقابل دوسری روایتیں موجود ہیں جو مضمون کے اعتبار سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت کرتی ہےں۔

            امام زین العابدین علیہ السلام اور مسلم بن عقبہ کی ملاقات کے ذیل میں متعدد روایتیں ملتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتی لیکن چوں کہ ان میں سے بعض روایات ائمہ علیہم السلام کی شخصیت اور ان کے کردار سے زیادہ قریب ہیں لہٰذا ہم ان کو قبول کرتے ہیں اور طبیعی طور پر قبول کرتے ہیں پھر ان کے بالمقابل بہت سی دوسری روایتیں خود بخود غلط قرار پاجاتی ہیں اور میرے نزدیک ان کے غلط ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا ۔

            بہر حال وہ اعمال جو بعض روایتوں میں بیان کئے گئے ہیں امام علیہ السلام سے بعید ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت (ع) نے مسلم بن عقبہ کے مقابلہ میں کسی معاندانہ رویہ کا اظہار نہیں ہونے دیا کیوں کہ اگر کوئی ایسا طریقہ کا ر آپ (ع) اپناتے تو قتل کر دیئے جاتے اور یہ چیز امام حسین علیہ السلام کی اس تحریک کے حق میں ایک ناقابل تلافی نقصان ثابت ہو سکتی تھی جس کو زندہ رکھنا امام سجاد علیہ السلام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تھا لہٰذا ضروری تھا کہ امام سجاد علیہ السلام زندہ رہیں اور اسی طرح جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایت میں کہا گیا ہے ۔ رفتہ رفتہ لوگ آپ (ع) سے ملحق ہوتے رہیں اور ان کی تعداد بڑھتی رہے ۔ در اصل امام زین العابدین علیہ السلام کا کام ایسے سخت اور نا مساعد حالات میں شروع ہوتا ہے جس کا جاری رکھنا عام افراد کے لئے تقریبا ناممکن تھا۔

            عبد الملک کا دور جس میں حضرت (ع) کی امامت کا بیشترین حصہ یعنی تقریبا ۳۰۔۳۲ سال گزرابڑا ہی دشوار دور تھا۔عبد الملک کی پوری مشینری مکمل طور پر آپ کی نگرانی پر لگی ہوئی تھی اس نے ایسے جاسوس مقرر کر رکھے تھے جو امام علیہ السلام کی زندگی کے ایک ایک پل حتی کہ خانگی اور خصوصی مسائل کی بھی خبر اس تک پہنچاتے رہتے تھے ۔

            امام زین العابدین کے پاس ایک کنیز تھی جس کو آزاد کرنے کے بعد آپ نے اس سے شادی کرلی ۔یہ خبر عبدالملک کو معلوم ہوئی تو اس نے حضرت کے نام ایک خط روانہ کیا اور اس میں اس موضوع پر طنز و سرزنش کی وہ اس طرح باور کرانے کی کوشش کررہاتھا کہ ہم کوآپ کے تمام امور کی خبر ملتی رہتی ہے اور تمام معاملات زندگی کی خبر رکھتے ہیں اور ضمنی طور پر ہم خون اور ہم قبیلہ ہونے کی بنیاد پر بحث و مناظرہ بھی کرنا چاہتا تھا ۔وہ خط میں لکھتا ہے کہ آپ کا یہ کام قریش کی روش کے خلاف ہے اور آپ چونکہ قریش کی ہی ایک فرد ہیں لہٰذا آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔چنانچہ حضرت (ع) نے بھی اس کا جواب بہت ہی تندو سخت لب و لہجہ میں دیتے ہیں جو قابل توجہ ہے ۔آپ نے اپنے خط سے عبد الملک پر یہ واضح کردیا کہ تیرا نیم دوستی اور نیم دشمنی پر محمول یہ خط کسی طرح بھی میرے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔

            یہ واقعہ اس دور کا ہے جب حضرت (ع) کسی حد تک اپنی جدو جہد کا آغاز کرچکے تھے ۔

امام علیہ السلام کے مقاصد

            امام سجاد (ع) کن حالات میں کام کیا ہے یہ بات واضح ہوگئی ،تو امام علیہ السلام ایسے حالات میں اپنی تحریک کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اس منزل میں ائمہ علیہم السلام کے مقصد اور طریقہ کار کے سلسلہ میں مختصرطور پر اشارہ کردیناضروری سمجھتا ہوں اس کے بعد اس روش اور طریقہ کار کی روشنی میں امام (ع)کی جزئیات زندگی پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا ۔

            اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جناب امام سجاد (ع)کا آخری مقصد ،اسلامی حکومت قائم کرنا ہے چنانچہ صادق آل محمد علیہ السلام کی اس روایت کے مطابق ،جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں ،خداوند عالم کی طرف سے   ۷۰ئہجری ،اسلامی حکومت کی تاسیس کا سال قرار دیا گیاتھا مگر  ۶۱  ء ہجری میں ہی امام حسین (ع) کی شہادت واقع ہوگئی جس کے نتیجہ میں یہ کام سن ۱۴۷۔۱۴۸تک کے لئے موقوف کردیا گیا ۔

            یہ چیز کامل طور پر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ جناب امام سجاد (ع) نیز دیگر تمام ائمہ علیہم السلام کا آخری مقصد اسلامی حکومت قائم کرنا ہی رہا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان حالات میں حکومت اسلامی کس طرح قائم ہو سکتی ہے ۔اس کے لئے چند چیزیں بہت ضروری ہیں ۔

   ۱۔      صحیح اسلامی طرز فکر ، جو واقعی طور پر ائمہ علیہم السلام کے پاس تھی ۔مدون و مرتب ہو اور درس و تبلیغ کے ذریعہ عام کی جائے کیوں کہ یہی طرز فکر ہے جس کو اسلامی حکومت کی بنیاد و اساس قرار دیا جا سکتا ہے ۔

            اس حقیقت کے پیش نظر کہ مسلسل طور پر ایک لمبے عرصے تک اسلامی معاشرہ صحیح اسلامی طرز فکر سے دور ی اختیار کئے رہا بھلا کس طرح ممکن ہو سکتا تھا کہ لوگوں کے ذہنوں پر اسلامی افکار کا نقش قائم کئے بغیر اسلامی نظریات پر مبنی ایک حکومت قائم کر دی جائے جب کہ ابھی حکومت کے حقیقی احکام کی تدوین و ترتیب بھی باقاعدہ عمل میں نہ آسکی ہو۔

            امام زین العابدین علیہ السلام کا عظیم ترین کارنامہ یہی ہے کہ آپ (ع) نے اسلام کے بنیادی افکار و نظریات توحید ، نبوت،انسان کی معنوی حیثیت ، خدا اور بندہ کے درمیان رابط نیز دیگر اہم موضوعات کو مدون و مرتب کر دیا ہے چنانچہ زبور آل محمد (ص) یعنی صحیفہ سجادیہ کی اہم ترین خصوصیت یہی ہے ۔ اگرآپ صحیفہ سجادیہ کا مطالعہ کریں اور اس کے بعد اس زمانے کی عام اسلامی فکر کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ دونوں کے درمیان کتنا عمیق فاصلہ نظر آتا ہے ۔ جس وقت پورا عالم اسلام مادیت میں گرفتار اپنی مادی ضروریات و خواہشات کی تکمیل میں سر گردان و منہمک ہے ، خلیفہ وقت ( عبد الملک بن مروان) سے لے کر اس کے ارد گرد بیٹھنے والے علماء تک (مثال کے طور پر محمد بن شہاب زہری جیسے درباری علماء ، جن کا کا ذکر عنقریب آئے گا) سب کے سب مفاد پرستی و دنیا طلبی میں غرق نظر آتے ہیں ۔ امام سجاد علیہ السلام لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کی اسلامی حمیت کو للکارتے ہیں :

            ” اولا حریدع ھٰذہ للماظة لا ھلھا“

            آیا (تم میں) کوئی ایسا آزاد مرد نہیں ہے جو اس دریدہ دہن حریص کتے کا بچا کھچا اس کے اہل کے لئے چھوڑ دے ۔     

            یہاں اسلامی طرز فکر سے مراد ۔ معنویات کو اصل ہدف قرار دے کر صحیح اسلامی و معنوی بلندیوں تک پہنچنے کی جد و جہد کرنا اور انسان کا اپنے معبود نیز اس کی طرف سے عائد شدہ ذمہ داریوں کے تئیں متوجہ رہنا ہے ۔ جب کہ اس کے بالمقابل وہ مادی طرز فکر ہے جس نے اس دور کے مسلمانوں کو اپنا شکار بنا رکھا تھا ۔

            بہر حال صرف نمونہ کے طور پر ہم نے ایک بات یہاںذکر کردی ورنہ امام سجاد علیہ السلام نے اس طرح کے بے انتہا امور انجام دیئے ہےں جس کے نتیجہ میں صحیح اسلامی طرز فکر اپنے اصل خد و خال کے ساتھ اسلامی معاشرہ میں باقی رہ جائے اور اس کو امام زین العابدین علیہ السلام کا اولین کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔

   ۲۔      اسلامی حکومت کی تشکیل کے لئے حقدار افراد کی طرف عوام کی رہنمائی کرنا ۔ ان حالات میں جب کہ دسیوں سال سے پیغمبر اسلام (ص) کی ذریت طاہرہ کے خلاف پروپیگنڈہ کا بازار گرم رہا ہو اور تقریبا پورا عالم اسلام اس شورو غوغا سے لبریز ہو ۔ پیغمبر اسلام (ص) کی طرف سے منسوب کرکے ایسی جعلی حدیثوں کا انبار لگا دیا ہو جو اہل بیت علیہم السلام کی تحریک کے سو فیصد خلاف ہوں حتیٰ کہ بعض حدیثوں میں اہل بیت علیہم السلام کو مورد سب ولعن قرار دے دیا گیا ہو ،اور یہ حدیثیں عوام کے درمیاں نشر بھی ہو چکی ہوں لوگوں کو اہلبیت(ع) کی صحیح معرفت اور ان کی معنوی حیثیت اور مقام کا علم ہی نہ ہو ۔تو بھلا بتایئے اہلبیت علیہم السلام کے ہاتھوں حکومت کی تشکیل کیسے ممکن ہو سکتی ہے ؟

            اسی لئے امام زین العابدین علیہ السلام کا ایک اہم ترین مقصد یہ بھی تھا کہ لوگوں کے درمیان اہلبیت علیہم السلام کی حقانیت کو واضح و آشکار کریں انھیں بتائیں کہ ولایت و امامت اور خلافت و حکومت ان کا حق ہے یہی حضرات پیغمبر ختمی مرتبت (ص) کے حقیقی جانشین ہیں ۔ساتھ ساتھ لوگوں کو اس مسئلہ کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا جائے چنانچہ اگر یہ مسئلہ اسلامی نظریات اور آئیڈیولو جی سے تعلق رکھتا ہے پھر بھی اس کا سیاست سے بڑا گہرا ربط ہے دوسرے لفظوں میں موجودہ سیاسی نظام کے خلاف ایک سیاسی تحریک ہے ۔

   ۳۔      امام سجاد علیہ السلام کی تیسری اہم ذمہ داری یہ تھی کہ ایک ایسی تنظیم تشکیل دی جائے جو آئندہ کے لئے ہر طرح کی سیاسی و اسلامی تحریک کا اصل محور قرار پا سکے لیکن ایک ایسے معاشرہ میں جہاں لوگ گھٹن ،فقر مالی ، و معنوی فشار کے زیر اثر افرا تفری اور پراگندگی کی زندگی گزار نے کے عادی ہو چکے ہوں حتٰی کہ خود شیعہ حضرات ایسے سخت دباؤ اور فشار میں مبتلا کر دیئے گئے ہوں کہ ان کی تنظیمیں درہم برہم ہو کر رہ گئی ہوں بھلا امام زین العابدین علیہ السلام کے لئے کس طرح ممکن تھا کہ تن تنہا یا اپنے چند گنے چنے نا منظم مخلصین کے ساتھ اپنا کام شروع کر سکیں؟

            چنانچہ کسی تحریک کے آغاز سے پہلے امام کے لئے ضروری تھا کہ وہ شیعوں کو منظم کریں اور باقاعدہ ان کی تنظیمیں تشکیل دیں ۔اور یہ جہاں تک میری نظر ہے ، امیر المومنین علیہ السلام کے دور میں موجود تھی البتہ بعد میں کربلا کے المناک سانحہ ،مدینہ میں حرہ کے حادثہ اور کوفہ میں مختار کے واقعہ نے تقریبا ان کی بنیادیں متزلزل کرکے رکھ دی تھیں اب ضرورت تھی کہ ان کو دوبارہ منظم کرکے ان میں ایک نئی روح پھونک دی جائے ۔

            مختصر یہ کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام کو اپنی تحریک آگے بڑھانے کے لئے بنیادی نوعیت کے حامل تین اہم کام انجام دینے تھے ۔

   اول۔    منزل من اللّٰہ ،صحیح اسلامی افکار و نظریات کی تدوین و تربیت ، جو ایک مدت سے تحریف یا فراموشی کی نذر کر دیئے گئے تھے ۔

   دوم ۔   اہلبیت علیہم السلام کی حقانیت اور خلافت و امامت و ولایت پر ان کے استحقاق کا اثبات ۔

   سوم۔    شیعایان آل محمد (ص) کو ایک نقطہ پر جمع کرکے ان کی ایک باقاعدہ تنظیم کی تشکیل ۔

            یہی وہ تین بنیادی کام ہیں جن کا ہمیں تفصیل سے جائزہ لینا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ ان میں سے کون سا کام امام سجاد علیہ السلام کے زمانہ انجام پایا ۔ اگر چہ ان تین امور کے علاوہ اور بھی بہت سے کام انجام پانے تھے مگر ان کو ضمنی و ثانوی حیثیت حاصل ہے ۔منجملہ اس کے کبھی کبھی خود امام علیہ السلام یا آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ ایسے اقدامات عمل میں آئیں یا ایسے افکار و خیالات پیش کئے جائیں جو اس گھٹن کے ماحول میں کسی حدتک تبدیلی لا سکیں۔

            چنانچہ ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جہاں مجمع عام میں امام (ع)کے ہمنوا یا خود امام علیہ السلام کچھ ایسے خیالات کا اظہار فرماتے نظر آتے ہیں جس کا مقصد محض اس گھٹن کی فضا کو توڑ کر اس منجمد ماحول میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا پیدا کرنا تھا ( البتہ اس طرح کے واقعات بھی اس دور کے ہیں جب تحریک میں کچھ استحکام پیدا ہوچلا تھا ) ۔

            بہر حال یہ وہ ضمنی اقدامات ہیں جس کے چند نمونے یا د دہانی کے طور پر آگے چل کر ہم پیش کریں گے ۔اسی طرح کا ایک اور ضمنی کام براہ راست موجودہ سیاسی مشینری یا اس کے لواحقین کے ساتھ معمولی طور پنجے نرم کرنا بھی ہے چنانچہ اس طرح کے قضیئے امام علیہ السلام اور عبد الملک بن مروان کے درمیان بار بار پیش آتے رہے ہیں اس کے علاوہ اسی ضمن میں حضرت (ع)اور عبدالملک سے وابستہ (محمدبن شہاب زہری جیسے ) منحر ف علماء کے درمیان پیش آنے والے معاملات بھی شامل ہیں ۔ امام علیہ السلام کے دوستوں اور خلفائے وقت کے مابین ہونے والی بعض معرکہ آرائیاں بھی اسی فہرست میں آتی ہیں ۔ اور ان سب کا ہدف و مقصد کسی حد تک اس حبس اور گھٹن کے ماحول سے لوگوں کو نجات دلانا تھا ۔ انشاء اللہ آگے ان جزئیات پر تفصیلی بحث کی جائے گی ۔

            اگر کوئی شخص صرف اسی حد تک میرے تمام معروضات کو اچھی طرح درک کرلے تو ساری کی ساری اخلاقی روایات موعظانہ گفتگو اور پیغامات ، عارفانہ اور دعائیں نیز دیگر بے بہا اقوال و ارشادات جو امام چہارم علیہ السلام سے مروی ہیں یا امام علیہ السلام کی زندگی میں واقع ہوتے رہے ہیں خود بخود ایک معنی پیدا کر لیں گے یعنی وہ شخص اس بات کو محسوس کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ امام علیہ السلام کے تمام اقدامات و ارشادات ان ہی تینوں خطوط کے ارد گردگھومتے نظر آئیں گے جن کی طرف میں نے ابھی اشارہ کیا ہے اور مجموعی طور پر ان تمام امور کا ایک ہی مقصد و ہدف یعنی ایک اسلامی حکومت کی تشکیل ہے ۔

            البتہ یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ امام سجاد علیہ السلام کو ہر گز اس بات کی فکر اور جلدی نہیں تھی کہ مطلوبہ اسلامی حکومت خود آپ (ع) کے زمانے میں ہی تشکیل پاجائے بلکہ آپ (ع) جانتے تھے کہ یہ کام مستقبل قریب میں آپ (ع) کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہاتھوں انجام پانا مقرر ہو چکا ہے ( جو آئندہ پیش آنے والے حادثات کی بنا پر دوبارہ معرض التوا میں پڑ گیا)

            ہماری گزشتہ بحث اس منزل تک پہنچی تھی کہ اسلامی حکومت کی تشکیل ہمارے تمام ائمہ معصومین علیہم السلام منجملہ ان کے امام زین العابدین علیہ السلام کا بنیادی مقصد و ہدف تھا چنانچہ اس سلسلہ میں امام (ع) کی تین اہم ترین امور انجام دینے تھے کیوں کہ ان مقداماتی منزلوں کو طے کئے بغیر اسلامی حکومت کی تشکیل ممکن ہی نہیں تھی ۔

پہلا کام

            لوگوں میں صحیح اسلامی طرز فکر پیدا کرنا تھا جو گزشتہ حاکمان جور کے ہاتھوں ایک مدت سے خود فراموشی یا تحریف کی نذر ہو چکا تھا چنانچہ اس کو اپنی اصلی و ابتدائی شکل و صورت میں واپس لانے کے لئے پورے اسلامی معاشرہ میں ہر خاص وعام کو جس حد تک بھی ممکن ہو سکے اور جہاں جہاں تک بھی امام (ع) کی تبلیغ و تعلیم کی آواز پہنچ سکے اسلامی اصول و حقائق سے آشنا کرنا بے حد ضروری تھا ۔

دوسرا کام

            مسئلہ امامت کی حقیقت سے لوگوں کو واقف بنانا تھا یعنی عوام کے درمیان اسلامی حکومت یا اسلامی حاکمیت اور اسلامی حاکمیت کو قائم کرنے کے لئے مستحق و موزوں افراد کی نشان دہی کرنی تھی ۔ ان کو یہ بتانا تھا کہ اس وقت جو لوگ خلافت و حکومت پر براجمان ہیں حاکمان کفر و استبداد اور مربیان فسق و نفاق ہیں ۔ اور آج اسلامی معاشرہ میں عبدالملک بن مروان جیسوں کی حکومت ، وہ حاکمیت نہیں ہے جو اسلام اپنے معاشرہ کے لئے چاہتا ہے کیوں کہ جب تک عوام ان مسائل سے آگاہ و ہوشیار نہ ہوں گے اور اپنے آپ میں نہ آئیں گے رفتار زمانہ کے ہاتھوں ان پر جو بے حسی طاری ہوگئی ہے اس کے گرد و غبار جب تک ذہنوں سے صاف نہ ہو جائیں گے امام علیہ السلام کی نگاہ میں حاکمیت کا جو تصور ہے ان کے لئے کبھی قابل قبول نہ ہوگا ۔

تیسرا کام

            ایک ایسی جماعت اور تنظیم تشکیل دینا جس سے وابستہ افراد دست امامت کے تربیت یافتہ مرکزی ارکان ہوں ۔

            ان تینوں بنیادی کاموں کے انجام پاجانے کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلامی حکومت یا علوی نظام کے لئے زمین ہموار ہو چکی ہے ۔ البتہ ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں اور یہاں پھر یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے برخلاف امام زین العابدین علیہ السلام کے پیش نظر یہ بات ہرگز نہیں تھی کہ خود ان کے زمانہ میں ہی یہ حاکمیت تبدیل ہو کر حکومت اسلامی قائم ہو جائے کیوں کہ معلوم تھا کہ امام زین العابدین علیہ السلام کے زمانہ میں اس کے لئے زمین ہموار نہیں ہو سکے گی ۔ ظلم و زیادتی حبس اور گھٹن کا ماحول کچھ اتنا زیادہ تھا کہ محض ۳۰سال کی مدت میں اس کا برطرف ہو جانا ممکن نہ تھا چنانچہ امام سجاد علیہ السلام مستقبل کے لئے زمین ہموار کر رہے تھے ۔حتٰی کہ ایسے بھی متعدد قرآئن ملتے ہیں جس کے مطابق امام محمد باقر علیہ السلام کا بھی اپنی زندگی کے دوران ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ خود اپنے دور میں ہی اسلامی حکومت تشکیل دے دیں یعنی  ۶۱ھئسے  ۹۵ھ ئتک جب کہ امام سجاد علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی اور پھر  ۹۵ھء سے ۱۱۴ھء تک جو امام محمد باقر علیہ السلام کا دور امامت ہے ان سے کوئی بھی خود اپنے زمانے میں ہی حکومت اسلامی تشکیل دے دینے کی فکر میں نہیں تھا لہٰذا ان کی نظر یں ایک مدت دراز کے بعد ظاہر ہونے والے نتائج پر تھیں چنانچہ جیسا کہ میں نے اشارتاً عرض کیا امام سجاد علیہ السلام کا طریقہ کار طویل المدت کے لئے تھا ۔

            اب ہم امام زین العابدین علیہ السلام کے ارشادات عالیہ کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے معروضات کا ثبوت ،خود امام علیہ السلام کے اقوال میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ امام سجاد (ع)کی زندگی کے بارہ میں کوئی تحقیقی جائزہ پیش کرتے وقت ہمارے بنیادی مصادر و ماخذ خود امام علیہ السلام کے کلمات مبارکہ ہی ہونے چاہئیں ۔ اور یہی طریقہ و روش دیگر ائمہ علیہم السلام کے سلسلہ میں بھی ہم نے اختیار کیا ہے کیوں کہ ہماری نظر میں کسی بھی امام (ع) کی زندگی سے متعلق صحیح معرفت و آشنائی کے لئے خود اس امام (ع)کی زبان مبارک سے جاری ہونے والے بیانات یا روایتیں بہترین منبع و مدرک ہیں ۔لیکن ہم اس سے قبل بھی یہ اشارہ کر چکے ہیں کہ ہم امام (ع) کے بیانات کو صرف اس وقت صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں جب موقف و مقصد ، راہ عمل اور تلاش و جستجو سے آشنا ہوں ور نہ ہم جوبھی تفسیر کریں گے وہ غلط ہوگی اور خود یہ آشنائی بھی ان کے کلمات کی برکت سے ہی حاصل ہوئی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ائمہ علیہم السلام کے کلمات سے کتنے صحیح نتائج اس سلسلہ میں ہم کو حاصل ہوں گے ۔

            قبل اس کے کہ ہم اس بحث میں وارد ہوں ایک اہم نکتہ کی طرف بطور اختصار اشارہ کر دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ امام علیہ السلام چوں کہ انتہائی گھٹن کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے تھے اور آپ (ع) کے لئے ممکن نہیں تھا کہ کھل کر صریحی طور سے اپنے موقف اور نظر یات بیان کر سکیں لہٰذا آپ (ع)نے دعا اور موعظہ کو اپنے اظہار کا ذریعہ قرار دیا ہے ۔دعا صحیفہ سجادیہ ،سے مربوط ہے جس کا ہم آئندہ ذکر کریں گے البتہ موعظہ کا تعلق ان اقوال و روایات سے ہے جو حضرت (ع) سے نقل ہوتی ہیں ۔ امام علیہ السلام کے زیادہ تر ارشادات یا شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ تمام کے تمام بیانات موعظہ کے لب و لہجہ میں ہیں ۔چنانچہ اسی موعظہ اور نصیحت کے ضمن میں وہ باتیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ، امام علیہ السلام نے بیان فرما دی ہیں ۔ جس وقت آپ ان بیانات کا نگاہ غائر سے مطالعہ کریں گے تو دیکھیں گے کہ امام علیہ السلام نے کتنا حکیمانہ اور مدبرانہ طریقہ کار منتخب کیا ہے بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ امام علیہ السلام لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہے ہیں لیکن اسی ضمن میں جوباتیں لوگوں کے ذہن میں بیٹھانا چاہتے ہیں غیر محسوس طور پر لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں اور یہ افکار و نظریات کے ابلاغ کا بہترین طریقہ ہے ۔

            یہاں ہم امام علیہ السلام کے ان کلمات کی تحقیق و تشریح کرنا چاہتے ہیں جو کتاب” تحف العقول “ میں حضرت (ع) سے نقل کئے گئے ہیں ،اسی میں وہ مطالب جو امام سجاد علیہ السلام سے نقل ہوئے ہیں ہمیں چند نوعیت کے حامل نظر آتے ہیں جو ان ہی مذکورہ جہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

            ان میں بعض بیانات وہ ہیں جن میں عام لوگوں سے خطاب ہے جیسا کہ خود بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے سننے اور پڑھنے والے امام علیہ السلام کے خاص الخاص افراد نہیں ہیں چنانچہ عام لوگوں سے خطاب کرتے وقت ہمیشہ قرآنی آیات سند کے طور پر پیش کی گئی ہیں کیوں کہ عوام الناس امام(ع) کو امام کی حیثیت سے نہیں پہچانتے وہ تو ہر بات کے لئے دلیل و استدلال چاہتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ امام یا تو براہ راست آیات سے استدلال پیش کرتے ہیں یا آیات سے مدد لیتے ہیں ۔ اس روایت میں تقریبا پچاس یا اس سے بھی زائد موارد میں قرآنی آیات کا براہ راست یا استعارہ کے طور پر استعمال نظر آتا ہے ۔

            لیکن بعد کے بیان میں جہاںجہاں مومنین سے خطاب ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ وہ امام کی معرفت رکھتے ہیں اور ان سے امام اپنی گفتگو کے دوران چوں کہ وہ امام کی بات قبول کرتے ہیں ،قرآن سے استدلال پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیںکرتے ۔ چنانچہ اگر شروع سے آخر تک جائزہ لیں تو قرآنی آیات بہت کم نظر آتی ہیں ۔

            امام سے ایک مفصل روایت نقل کرتے ہوئے ” صاحب تحف العقول “ فرماتے ہیں :

            ”موعظتہ لسائر اصحابہ و شیعتہ و تذکیرھ ا یاھم کل یوم جمعة“

            یعنی یہ موعظہ اس لئے تھا کہ حضرت (ع) کے شیعہ اور حضرت (ع)کے دوست ہر جمعہ کے دن اپنو کے مجمع میں یا تنہا انفرادی طور پر اسے پڑھا کریں ۔ یہاں مخاطبین کا دائرہ کافی وسیع ہے اور یہ نکتہ خود اس تفصیلی روایت میں پائے جانے والے قرآئن سے استنباط کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس روایت میں خطاب ایھا المومنین ایھا الاخوة یا اسی کے مثل کسی اور عنوان سے نہیں ہے بلکہ ایھا الناس ، سے خطاب ہے جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے جب کہ بعض دوسری روایتوں میں خود خطاب کا انداز مومنین سے خطاب ہونے کی نشان دہی کرتا ہے لہٰذا یہاں عمومی خطاب ہونا ثابت ہے ۔

            اس کے علاوہ اس روایت میں موجودہ نظام کو صاف او ر صریحی انداز سے مورد مواخذہ و عتاب قرار دیئے جانے کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی صرف عقائد یا وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جن کا جاننا انسان کے لئے ضروری ہے دوسرے لفظوں میں محض اعتقاد ات و معارف اسلامی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جیسا کہ ہم نے عرض کیا پورا خطاب موعظہ کے لب و لہجہ میں ہے جس کی ابتدا ان الفاظ میں ہوتی ہے:

            ” ایھا الناس اتقوا اللّٰہ و اعلموا انکم الیہ راجعون“

            گفتگوہی موعظہ سے شروع ہوتی ہے کہ اے لوگو ! تقوائے الٰہی اختیار کرو اور یا د رکھو کہ آخر خدا کو منھ دکھانا ہے ۔

            اس کے بعد عقائد اسلامی کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمھارا فرض ہے کہ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کرو جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ تم اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکے ہو گویا اس پیان کے ذیل میں لوگوں کے اندر اسلام کی صحیح شناخت کا جذبہ بیدار کر رہے ہیں ۔

            اسی طرح ذرا دیکھئے کہ کتنے حسین انداز میں امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :

            ” الاوان اول مایسالا نک عن ربک الذی کنت تعبدہ “

            اسی موعظانہ تقریر میں ذیل میں آگے بڑھ کر فرماتے ہیں : اس وقت سے ڈرو جب تم کو لوگ تن تنہا قبر کے حوالے کر دیں گے اور منکر و نکیر تمھارے پاس آئیں گے اور پہلی چیز جس کے بارہ میں تم سے سوال کریں گے ، تمھارے خدا سے متعلق ہوگی جس کی تم پر ستش و عبادت کرتے ہو یعنی سننے والوں کے ذہن میں توحید کا مفہوم اتار کر معرفت خدا کی لہر پیدا کر رہے ہیں ۔

            ”و عن نبیک الذی ارسل الیک “         اور تم سے اس نبی کے بارے میں سوال کریں گے جو تمھاری طرف بھیجا گیا تھا ۔

            گویا مسئلہ نبوت اور حقیقت محمدی (ص)کے عرفان کا جذبہ زندہ کر رہے ہیں ۔

            ”و عن دینک الذی کنت تدین بہ “        اور اس دین کے بارے میں پوچھیں گے جس کی تم نے پیروی کی ہے ۔

            ”وعن کتابک الذی کنت تتلوہ “                       اور تمھاری اس کتاب کے سلسلہ میں خبر لیں گے جس کی تم تلاوت کیا کرتے تھے ۔

            اور پھر مذہب اسلام کے ان ہی بنیادی و اساسی مسائل و عقائد یعنی توحید ،نبوت ،قرآن اور دین کے ساتھ ہی ساتھ اپنے مد نظراصلی نکتہ کی طرف بھی لوگوں کو متوجہ کر دیتے ہیں ۔

            ”و عن امامک الذی کنت تتولاہ “         اور اس امام کے بارہ میں بھی سوال ہوگا جس کی ولایت کا تم دم بھرتے رہے ہو ۔

            یہاں امام علیہ السلام مسئلہ امامت کو واضح کر رہے ہیں در اصل اہمہ علیہم السلام کے یہاں مسئلہ امامت مسئلہ حکومت سے الگ نہیں ہے ائمہ کے نزدیک مسئلہ ولایت اور مسئلہ امامت میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ اگر چہ ممکن ہے ولی اور امام کے معنی آپس میں کچھ تفاوت رکھتے ہوں لیکن یہ دونوں مسئلہ   —-مسئلہ امامت ومسئلہ ولایت  —-ائمہ کی زبان میں ایک ہیں اور ان سے ایک ہی معنی مراد ہیں اس جگہ حضرت (ع)اسی امام کے بارہ میں سوال کی بات کر رہے ہیں جو دینی طور پر لوگوں کی ہدایت و اگاہی کا بھی متکفل و ذمہ دار بنایا گیا ہے اور دنیوی اعتبار سے ان کے امور زندگی کا بھی نگراں اور ذمہ دار قرار دیا گیا ہے یعنی پیغمبر اسلام (ص) کا جانشین ۔

            یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج ہم جس دور میں زندگی گزار رہے ہیں ،لوگ امام کا مطلب اچھی طرح سمجھنے لگے ہیں ۔ گزشتہ زمانہ میں عوام اس کا صحیح مفہوم درک کرنے سے قاصر تھے ۔ آج ہم جانتے ہیں امام یعنی معاشرہ کا رہبر و قائد ۔ امام یعنی وہ جس سے ہم دین بھی حاصل کرتے ہیں اور دنیا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جس کی اطاعت ہم پر دینی امور میں بھی واجب ہے ار دنیوی معاملات میں بھی فرض ہے ۔

            خوش قسمتی سے دور حاضر میں لفظ امام نے ہمارے ذہنوں میں اپنا صحیح مقام حاصل کر لیا ہے ورنہ آپ ملاحظہ فرمائیں صدیوں سے دنیا ئے تشیع میں یہ مسئلہ کتنی غلط فہمی کا شکار رہا ہے لوگ خیال کرنے لگے تھے کہ ایک شخص وہ ہے جو معاشرہ پر حکومت کر رہا ہے نظم زندگی سے متعلق امور اس کے ہاتھ میں ہیں بندش و آزادی سے لے کر جنگ و صلح تک سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے وہی مالیات ( ٹیکس) مقرر کرتا ہے اور وہی ہمارے اچھے اور برے کا مالک و ذمہ دار ہے اور اسی کے بالمقابل ایک شخص اور بھی ہے جس کا کام لوگوں کا دین درست کرنا ہے پہلے کو حاکم کہتے ہیں دوسرے کو غیبت کے زمانہ میں عالم اور قبل از غیبت امام کہتے ہیں یعنی ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں ایک امام کی منزل ہم وہی تصور کرنے لگے تھے جو غیبت امام کے زمانے میں ایک عالم دین کی ہوتی ہے ظاہر ہے یہ تصور قطعا غلط ہے ۔

            در اصل امام، پیشوا اور ہادی کو کہتے ہیں جیسا کہ ہم صادق آل محمد علیہ السلام کے حالات زندگی کے ذیل میں اشارہ کر چکے ہیں کہ جس وقت امام منیٰ یا عرفات میں پہنچتے ہیں ایک مرتبہ یہ آواز بلند ارشاد فرماتے ہیں ۔

            ” یا ایھا الناس ان رسول اللّٰہ وھو الامام “

            یعنی پیغمبر اسلام  (ص) امام تھے ، امام اس کو کہتے ہیں جو لوگوں کے دین اور دنیا کا ذمہ دار ہوتا ہے ، چنانچہ امام سجاد علیہ السلام کے دور میں بھی جس وقت اسلامی معاشرہ کی حکومت و فرمانروائی عبد الملک بن مروان کے ہاتھ میں تھی ،لوگ امام کا مفہوم غلط سمجھ بیٹھے تھے ۔معاشرہ کی امامت کا مطلب ہی لوگوں کے مسائل حیات نیز تمام بندش و آزادی کے نظام کی نگرانی و تحفظ کرنا ہے اور یہ امامت کا ایک بڑا ہی اہم شعبہ ہے —-یہ منصب اہل سے لے کر نااہلوں کے سپرد کر دیا گیا تھا  —- اور وہ نااہل خود کو امام سمجھتا بھی تھا وہی نہیں بلکہ عرصہ تک عوام بھی اس کو امام ہی سمجھا کرتے تھے ۔ چنانچہ لوگ عبد الملک سے پہلے مروان بن حکم اور اس سے پہلے یزید اور اس کے پیش رووں کو اسی طرح عبدالملک کے بعد اس کی جگہ پر آنے والے دوسرے لوگوں کو اپنا امام تصور کرتے رہے ان کو معاشرہ کا رہبر نیز لوگوں کے اجتماعی مسائل پر حاکم کے عنوان سے قبول کرتے تھے ۔ اور یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ چکی تھی۔

            جس وقت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :قبر میں تم سے امامت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امام(ع) متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ فیصلہ کر لو کہ جب نکیرین سوال کریں گے کہ آیا تم نے جس کو اپنا امام منتخب کیا تھا وہ واقعی امام تھا ؟ وہ شخص جو تم پر حکومت کر رہا تھا ، معاشرہ کی رہبری جس کے ہاتھ میں تم نے دے رکھی تھی کیا وہ حقیقتاً امام ہونے کا مستحق تھا؟ کیا وہ وہی شخص تھا جس کی امامت پر خدا راضی تھا ؟ اس کا کیا جواب دوگے ؟ یعنی اس طرح حضرت (ع) لوگوں کو اس مسئلہ کی نزاکت کا احساس دلا کر انھیں بیدار کر رہے تھے گویا بالکل غیر محسوس طور پر مسئلہ امامت جس کے سلسلہ میں بنو امیہ کی پوری مشینری کسی طرح کی کوئی بات سننے پر قطعی تیار نہ تھی امام علیہ السلام اس کو موعظہ میں ڈھال کر ایک عمومی خطاب کے ضمن میں پیش کر کے لوگوں کے ذہن و احساس کو زندہ وبیدار کر رہے تھے ۔ یہاں امام علیہ السلام کی روش اور طریقہ کار میں ٹھہراؤ پایا جاتا ہے کسی طرح کی عجلت نظر نہیں آتی ۔آگے چل کر جہاں امام (ع) نے ذرا سختی اور تیز ی سے کام لیا ہے ہم اس کا بھی ذکر کریں گے ۔

            مختصر یہ کہ عوام الناس سے مربوط اپنے عمومی خطاب میں امام علیہ السلام موعظہ کی زبان میں اسلامی معارف منجملہ وہ حقائق جن پر حضرت (ع)کی خاص توجہ بھی ، لوگوں کے ذہنوں میں زندہ کر رہے ہیں آپ (ع)کی کوشش ہے کہ عوام ان چیزوں کو یاد رکھیں ۔اس قسم کے خطابات میں دو نکتے خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں ۔

            اولاً یہ کہ عوام الناس سے کئے جانے والے یہ خطاب تعلیمی نقطہ نظر سے نہیں پیش کئے گئے ہیں بلکہ ان کی نوعیت تذکر و یاد دہانی کی ہے یعنی یہاں امام علیہ السلام بیٹھ کر عوام کے سامنے مسئلہ توحید کے دریچے کھولنے یا مسئلہ نبوت کی گھتیاں سلجھانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ محض تذکر و یاددہانی مقصود ہے ۔

            مثلا مسئلہ نبوت کو لے لیجئے ۔ ظاہر ہے امام سجاد علیہ السلام جس معاشرہ اور جس زمانہ میں زندگی بسر کررہے تھے ابھی پیغمبر اسلام (ص) کو گزرے ہوئے اتنی زیادہ مدت نہیں ہوگئی تھی کہ مکمل طور اعتقادات اسلامی انحراف یاتحریف کا شکار ہوچکے ہوں اس زمانہ میں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جنھوں نے پیغمبر اسلام (ص) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ،اور ائمہ اطہار علیہم السلام میں سے ۔امیرالموٴمنین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام کو دیکھنے والے بھی موجود تھے اور اجتماعی نظام کے اعتبار سے ابھی وہ نوبت نہیں پہنچی تھی کہ لوگ مسئلہ توحید ونبوت کے سلسلے میں یا مسئلہ معاد وقرآن کے بارے میں کسی بنیادی واصولی شک وشبہ اور تحریف سے دوچار ہوں۔ہاں یہ ضرور کہاجا سکتا ہے کہ اکثریت ان کو بھلا بیٹھی تھی ۔مادی زندگی اس بات کی موجب ہوئی کہ لوگ اسلام ،اسلامی ،اعتقادات اور ان کی عظمت واہمیت کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے ۔

            معاشرہ میں دنیوی ومادی طمع نے اس شدت کے ساتھ لوگو ں کواپنا اسیر بنالیا تھا کہ اصلاًیہ فکر کہ انسانی زندگی میں معنویات وخیرات کے سلسلہ میں تقابل و موازنہ کا بھی کوئی میدان موجود ہے لوگوں کے ذہنوں سے بالکل نکل چکا تھا اور کسی کو اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوئی فکر نہ تھی اور اگر اس طرف کوئی قدم بڑھاتابھی تو اس میں ظاہر داری اور سطحیت کا عمل دخل ہوتا توحید کے وہ آثار و فواید جو پیغمبر اکرم (ص) کے دور میں یا اس سے متصل قریبی زمانہ میں لوگوں پر مرتب ہوتے تھے اور اس سلسلے میں وہ احساس و ادراک اور وہ ذمہ داری اب مفقود ہو چکی تھی لہٰذا فقط تذکر و یاد دہانی کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں میں ادراک پیدا ہوجائے ورنہ دین میں ابھی کوئی ایسی تحریف نہیں ہوئی تھی جس کی تصحیح ضروری ہو اس کے برخلاف بعد کے زمانوں میں مثال کے طور پر امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور کو لے لیجئے یہ بات اپنی حد سے آگے بڑھ چکی تھی اس وقت خود مسلمانوں کے درمیان بہت سے متکلمین یا دوسرے لفظوں میں بہت سے فلسفی اور منطقی پیدا ہو گئے تھے جو طرح طرح کے ناموں سے بڑی بڑی مسجدوں ۔ مسجد مدینہ ،مسجد شام ،حتیٰ کہ خود مسجد الحرام میں آکر بیٹھ جاتے تھے اور غلط افکار و عقائد کی باقاعدہ تعلیم و تدریس فرماتے تھے ۔

            وہاں ابن ابی العوجا جیسے افراد بھی موجود تھے جو زندیقیت و دہریت ےعنی وجود خدا سے انکار کا درس دیا کرتے تھے اور اس پر استدلال بھی پیش کرتے تھے ےہی وجہ ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام کے بیانات کا ہم جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ حضرت (ع)توحید و نبوت یا اسی کے مثل دوسرے مسائل باقاعدہ استدالال کے ساتھ بیان فرماتے ہیں ،ظاہر ہے دشمن کے استدلال کے خلاف استدلال کی ہی ضرورت ہوتی ہے ۔جب کہ امام زین العابدین علیہ السلام کے بیانات میں یہ چیزیں نہیں ملتی ۔حضرت (ع) اسلامی مطالب پیش کرتے وقت منطقی استدلال عوام کے سامنے پیش نہیں کرتے بلکہ صرف تذکر و یاد دہانی کے طور پر اشار ہ کر دیتے ہیں ۔دیکھو !قبر میں تم سے توحید و نبوت کے سلسلہ میں سوالات کئے جائیں گے ۔آپ نے ملاحظہ فرمایا یہ صرف ذہن کو ایک ٹہوکا دینے کے لئے ہے کہ انسان ان مسائل پر سوچنے کے لئے مجبور ہو جائے اور وہ چیزیں جو غفلت و فراموش کی نذر ہو چکی ہے ذہن دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہو جائے ،

            خلاصہ بحث یہ کہ امام سجاد علیہ الصلوٰة و السلام کے دور میں کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو اس بات پر دلالت کرے کہ لوگ حتی کہ ارباب حکومت و سلطنت بھی ، اسلامی فکر و نظر سے کھل کر بغاوت و برگشتگی پر آمادہ ہو ں ہاں صرف ایک موقع مجھے نظر آیا اور اس کا اظہار یزید کے اس شعر سے ہوتا ہے جواس نے غرور ومستی میں ڈوب کر اس وقت پڑھا تھا جب خانوادہٴ رسول اکرم (ص) کو اسیر کرکے اس کے دربار میں پیش کیا گیا ۔وہ کہتا ہے :

لعبت ھاشم باملک فلا

خ-بر جاء ولا وحی ن-زل

            (معاذ اللہ)بنی ہاشم نے حکومت و سلطنت کے لئے ایک کھیل کھیلا تھا نہ کوئی خبر آئی اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی یعنی اس کو دین و وحی سے کوئی مطلب نہ تھا  — چنانچہ اس مسئلہ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یزید کی یہ ہرزہ سرائی ممکن ہے نشہ و مستی کے غلبہ کے سبب رہی ہو  — ورنہ حتیٰ کہ عبد الملک اور حجاج بن یوسف جیسوں میں بھی عقیدہ توحید یا عقیدہ نبوت سے کھل کر مخالفت کرنے کی جراٴت نہ تھی ۔عبد الملک بن مروان وہ شخص ہے جو اس کثرت سے قرآن کی تلاوت کیا کرتا تھا کہ اس کو لوگ قراء قرآن میں شمار کرتے تھے ۔ چنانچہ کہتے ہیں جس وقت اس کو خبر دی گئی کہ تم خلیفہ ہو گئے اور حکومت پر فائز ہوئے تو اس نے قرآن کو بوسہ دیا اور کہا:” ھٰذا فراق بینی و بینک “یعنی اب ہماری اور تمھاری ملاقات قیامت میں ہوگی ۔حقیقت بھی یہی تھی پھر اس کے بعد اس نے کبھی قرآن اٹھاکر نہ دیکھا ۔

            حجاج بن یوسف کیسا ظالم تھا آپ نے سنا ہی ہوگا لیکن یقینا جتنا آپ نے سنا ہے وہ اس کے مظالم سے کہیں کم ہے ۔اس کے جیسا شخص بھی جب منبر سے خطبہ دیتا ہے تو لوگوں کو تقوائے الٰہی کی تلقین کرتا نظر آتا ہے ۔ چنانچہ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی میں جو کچھ ملتا ہے اس کا ماحصل عوام کو اسلامی افکار و نظریات کی طرف متوجہ اور خبر دار کرنا ہے تاکہ لوگوں کے فکری بہاؤ کو مادیت کے بجائے خدا ، اس کے دین اور قرآن کی طرف موڑ دیا جائے ․

ہم فکر جماعت کی تشکیل

            بہر حال ،یہ امام علیہ السلام کے بیانات کی ایک قسم تھی ۔ دوسری قسم کے بیانات وہ ہیں جن میں امام زین العابدین علیہ السلام کے مخاطب کچھ مخصوص افراد ہیں اگر چہ یہ مشخص نہیں ہے کہ یہ کن لوگوں سے خطاب ہے لیکن یہ کاملا طے ہے کہ آپ کا خطاب ایک ایسے گروہ سے ہے جو موجودہ حکومت سے بیزار اور اس کا مخالف ہے چاہے وہ جو لوگ بھی ہوں ۔اور شاید یہ کہنا بھی غلط نہ ہو کہ یہ وہی گروہ ہے جو امام علیہ السلام کی اطاعت اور حکومت اہلبیت (ع) پر یقین و اعتقاد رکھتا ہے ۔

            کتاب”  تحف العقول “میں خوش قسمتی سے امام علیہ السلام کے اس قسم کے بیانات کا ایک نمونہ موجود ہے ( ایک نمونہ اس لئے کہ جب ہم اس طرح کی دوسری کتابوں کی چھان بین کرتے ہیں تو ان میں بھی ایسے چند نمونوں کے سوا امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول کوئی اور چیز نہیں ملتی )پھر بھی انسان یہ محسوس کرسکتا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی میں اس طرح کے بے انتہا نمونے پیش آئے ہوں گے مگر موجودہ حالات اور آپ (ع) کی حیات کے دوران پیش آنے والے طرح طرح کے حوادث گھٹن کی زندگی دشمنوں کے حملے ،اذیتیں ،اصحاب ائمہ کا قتل اور شہادت یہ سب اس بات کا باعث بنے کہ وہ گراں بہا آثار باقی نہ رہ سکے چنانچہ بہت ہی کم مقدار میں چیزیں ہمارے ہاتھ لگ سکی ہیں ۔

            بہر حال امام علیہ السلام کا یہ بیان کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے :

            ”کفانا اللّٰہ و ایاکم کید الظالمین و بغی الحاسد ین و بطش الجبارین “

            خدا وند عالم ہم کو اور تم کو ظالموں کے مکر و فریب ،حاسدوں کی بغاوت و سر کشی اور جابروں کی جبر و زیادتی سے محفوظ و مامون رکھے ۔

            خود خطاب کا انداز بتاتا ہے کہ امام علیہ السلام اور آپ کا مخاطب گروہ دونوں اس جہت میں شریک ہیں یعنی موجودہ حکومت و نظام کی طرف سے وہ سب کے سب خطرہ میں ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ بات ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس جماعت کو لفظ مومنین یا اہلبیت کے محبین و ،مقربین سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔چنانچہ اس انداز کے خطابات ” یا ایھاالموٴمنون “ سے شروع ہوتے ہیں ۔جب کہ پہلی نوعیت کے بیانات میں ”ایھا الناس“یا بعض موارد میں” یابن آدم “سے خطاب کیا گیا ہے اور یہاں ایھا المومنون ہے یعنی امام علیہ السلام کے خطاب میں اپنے مخاطبین کے صاحب ایمان ہونے کا اعتراف موجود ہے اور یہ وہ مومنین ہیں جو اہلبیت علیہم السلام اور ان کے افکار و نظر یات پر واقعی ایمان رکھتے تھے ۔

            اس منزل میں جب امام علیہ السلام اپنے اصل مطلب پہ آتے ہیں تو آپ (ع)کی گفتگو بھی اس چیز کی واضح نشان دہی کرتی ہے کہ آپ (ع)کے مخاطب مومنین ۔یعنی اہلبیت علیہم السلام سے قربت رکھنے والے افراد ہیں ۔

            ”لا یفتننکم الطواغیت واتباعھم من اہل الرغبة فی الدنیا المائلون الیھا ،المفتنون بھا المقبلون علیھا“

            ”یہ طاغوتی افراد اور ان کے مطیع و فرمانبردار جو دنیا کے حریص ،اس کے شیدائی ،اس پر فریفتہ و قربان اور اس کی طرف دوڑ نے والے لوگوں سے ہیں تم کو فریب میں مبتلا نہ کر دیں “

            یہاں۔ مومنین سے خطاب کے وقت اصل لب و لہجہ میں ان کو شر سے محفوظ رہنے اور آئندہ ہم فکر ی کے ساتھ کام کرنے کے لئے آمادہ کیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے موجودہ طاغوتی نظام کے طرفداروں اور ائمہ کے ہمنواؤں کے درمیان اندر اندر جو شدید مخالفت اور مقابلہ آرائی جاری تھی اس کی وجہ سے ائمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں کو بڑی سخت محرومیت اور رنج و مصیبت جھیلنی پڑ رہی تھی ۔

            چنانچہ امام علیہ السلام کے اس بیان میں اس نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے مومنین کو اس بات سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس دنیا کی وقتی تڑک بھڑک اور جھوٹی نمائش کے چکر میں اگر آگئے تو اس کی قیمت کے طور پر تم کو اہل طاغوت سے ہاتھ ملانا پڑے گا ۔اور یہ انداز اور لب و لہجہ نہ صرف اس بیان میں بلکہ امام علیہ السلام سے منقول اور بھی بہت سے دوسرے مختصر اقوال و روایات میں آپ مشاہدہ فرماسکتے ہیں ۔اگر آپ ان کو دیکھیں تو محسوس کریں گے کہ امام علیہ السلام نے لوگوں کو دنیا سے پر ہیز کی دعوت دی ہے ۔

            دنیا سے پرہیز سے کیا مطلب ہے ؟ یعنی لوگوں کو اس لہر سے محفوظ رکھیں جو انسان کو ناز و نعم میں غرق کر دیتی ہے اور اس کے دام میں گرفتار ہو کر انسان اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور اس کی انقلابی جد و جہد سرد پڑ جاتی ہے ۔اور یہ دعوت مومنین سے متعلق خطابات میں ملتی ہے عوام الناس سے خطاب کے دوران یہ انداز بہت کم نظر آتا ہے ۔عوام سے خطاب کے وقت ،جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں زیادہ تر جولب و لہجہ اپنایا گیا ہے وہ ہے کہ : لوگو، خدا کی طرف متوجہ رہو قبر و قیامت کا دھیان رکھو ،اپنے کو کل کے لئے آمادہ کر و یا اسی طرح کی دوسری باتیں۔

            ان حقائق کی روشنی میں اگر کوئی سوال کرے کہ اس دوسرے قسم کے خطابات سے امام علیہ السلام کا مقصد کیا تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام ایک ہم فکر جماعت تیار کرنا چاہتے ہیں امام (ع) چاہتے ہیں کہ کسی ضروری موقع کے لئے مومنین کا ایک گروہ رہے یہی وجہ ہے ان لوگوں کو اعلیٰ اقتدار کی ہوس اور جھوٹی مراعات کی چکا چوند سے محفوظ رکھیں اس دوسرے قسم کے بیان میں امام (ع) بار بار موجودہ حاکم نظام کا تذکرہ کرتے ہیں جب کہ گزشتہ قسم کے بیان میں یہ چیز اتنی وضاحت کے ساتھ نظر نہیں آتی یہاں امام سجاد علیہ السلام بڑے ہی سخت لب ولہجہ میں حکومتی مشینری کو مورد ملامت قرار دیتے ہوئے اس کو شیطان کا ہم پلہ بتاتے ہیں مثال کے طور پر فرماتے ہیں ۔

            ”وان الا مور الواردة علیکم فی کل یوم و لیلة من مظلمات الفتن و حوادث البدع و سنن الجور و بوائق الزمان “

            تم لوگ جن امور سے ہر شب و روز دو چار رہتے ہو (یعنی) یہ ظلمت خیز فتنے نئی نئی بدعتیں  —-وہ بدعتیں جو ظالم نظام کی اختراع ہیں  —- ظلم و جور پر مبنی سنتیں اور زمانہ بھر کی سختیاں ۔

            ” و ھیبة السلطان“ یہ سلطنت کا خوف و ہراس ۔

            ”ووسوسة الشیطان “ اور شیطانی وسوسے ۔

            یہاں امام علیہ السلام ذکر سلطان کے فورا بعد وسوسہ شیطان کا ذکر کر تے ہیں یعنی پوری صراحت کے ساتھ حاکم وقت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کو شیطان کا دست راست قرار دیتے ہیں ۔گفتگو کے آخر میں امام (ع) ایک نہایت ہی عمدہ جملہ ارشاد فرماتے ہیں چوں کہ یہ جملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے لہٰذا ہم اسے یہاں نقل کر دینا چاہتے ہیں یہ جملہ اسی مطلب کی نشان دہی کرتا ہے جس کی طرف ابھی ہم اشارہ کر چکے ہیں ۔امام  (ع)فرماتے ہیں :

            ” لتثبط القلوب عن نیتھا“

            یہ حوادث جو انسانی زندگی میں شب و روز پیش آتے ہیں ۔خصوصا ایسے گھٹن کے ماحول میں دلوں کو ان کی نیت اور جہت سے موڑ دیتے ہیں ، جہاد کے شوق اور اس کے محرکات کو ختم کر دیتے ہیں ۔

            — ” وتذہلھا عن موجود الھدیٰ“

            موجودہ ہدایت کو یعنی وہ ہدایت جو موجودہ معاشرہ میں پائی جاتی ہے اس کی طرف سے ذہنوں کو غافل و برگشتہ کر دیتے ہیں ۔

            ” ومعرفة اھل الحق“

            (اور انسان سے ) اہل حق کی معرفت سلب کرکے فراموشی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور اہل حق کی یاد کو ان کے دلوں میں باقی نہیں رہنے دیتے ۔

            امام علیہ السلام کے اس پورے بیان میں وہی اسلوب وانداز پایا جاتا ہے جس کا ہم نے شروع میں ذکر کیا ہے یعنی لوگوں کو موعظہ و نصیحت کے انداز میں خبر دار کر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کے حوادث زندگی ان کو ان کی مجاہدانہ روش سے غافل بنا دیں اور انھیں ان کے راستہ سے منحرف کردیں اور دل و دماغ اس کی یاد سے خالی ہو جائے ۔ امام علیہ السلام کے ایسے متعدد بیانات ملتے ہیں جن میں سلطان و حاکم جور کا ذکر کیا گیا ہے ۔

            ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

            ”وایاکم و صحبة العاصین و معونة الظالمین “

            ایسا نہ ہوکہ تم لوگ گناہ گاروں کی ہم نشینی اختیار کو لو اور ستم گروں کی مدد کرنے لگو۔یہاں گناہگاروں سے مراد کون لوگ ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو عبدالملک کے ظالمانہ نظام کا جز بن چکے ہیں ۔ امام علیہ السلام ان کی ہم نشینی سے منع کر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لوگ ظالموں کی مدد کا ذریعہ بن جاؤ۔

            اب ان حقائق کی روشنی میں امام سجاد علیہ السلام کی تصویر پر دہٴ تخیل پر اتار کر دیکھئے کہ حضرت کی کیسی شخصیت آپ کے ذہن میں ابھر کر سامنے آتی ہے آیا اب بھی وہی مظلوم و بے زبان کمزور و بیمار امام جو امور زندگانی سے کوئی مطلب نہیں رکھتا آپ کے ذہن میں آتاہے ؟! امام علیہ السلام اپنے کچھ مومن دوستوں طرفداروں اور بہی خواہوں کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں اور موجودہ حالات میں ان کو ظالم حکام اور درباریوں کی قریب وہم نشینی نیز اپنی مقدس مہم اور جد و جہد سے غافل و بے پرواہ ہونے سے سختی کے ساتھ منع کرتے ہیں اور ان کو اجازت نہیں دےتے کہ وہ اپنی مجاہدانہ سر گرمیوں سے منحرف ہو جائیں ۔ امام علیہ السلام ان کے ایمانی جذبات کو تر و تازہ اور زندہ و باقی رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ایک روز ان کا وجود اسلامی حکومت کے قیام کی راہ میں موثر ثابت ہو سکے ۔

فلسفہ امامت ،امام علیہ السلام کی نظر میں

            منجملہ ان تمام چیزوں کے جو امام علیہ السلام کے بیا نا ت کے اس حصہ میں مجھے نہایت ہی اہم اور قابل توجہ نظر آئیں حضرت (ع)کے وہ ارشادات بھی ہیں جن میں اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ افراد کے گزشتہ تجربات کا آپ نے ذکر فرمایا  —  بیان کے اس حصہ میں جناب امام سجاد (ع)لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :کیا تم لوگوں کو یاد ہے (یا تم کو اس بات کی خبر ہے )کہ گزشتہ ادوار میں ظالم و جابر حکمرانوں نے تم پر کیا کیا زیادتیاں کی ہیں  — یہاں ان مصیبتوں اور زیادتیوں کی طرف اشارہ مقصود ہے جو محبان اہل بیت (ع)کو معاویہ ،یزید اور مروان وغیرہ کے ہاتھوں اٹھانی پڑی ہیں چنانچہ امام علیہ السلام کا اشارہ واقعہ کربلا ،واقعہ حرہ ،حجر بن عدی اور رشید ہجری وغیرہ کی شہادت نیز ایسے بہت سے مشہور و معروف ،اہم ترین حادثوں کی طرف ہے جس کا اہل بیت (ع) کے مطیع و ہمنوا افراد گزشتہ زمانوں میں ایک طویل مدت سے تجربہ کرتے چلے آرہے تھے اور وہ واقعات ان کے ذہنوں میں ابھی موجود تھے ۔ امام علیہ السلام چاہتے ہیں کہ گزشتہ تجربات اور تلخ ترین یادوں کو تازہ کرکے لوگوں کے مجاہدانہ عزم و ارادہ میں مزید پختگی پیدا کریں ۔مندرجہ ذیل عبارت پر ذرا توجہ فرمایئے:

            ” فقد لعمری استدبرتم من الا مور الماضیة فی الایام الخالیة من فتن المتراکمة والانھماک فیھا ماتستد لون بہ علی تجنب الغواة و․․․․․“

            میری جان کی قسم ،وہ گزشتہ واقعات جو تمھاری آنکھوں کے سامنے گزر چکے ہیں  —فتنوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جس میں ایک دنیا غرق نظر آتی تھی تم لوگوں کو ان حوادث و تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے   —  اور ان کو اپنے لئے درس و استدلال بناتے ہوئے زمین پر فساد پرپا کرنے والے گمراہ اور بدعتی افراد سے دوری و اجتناب کر لینا چاہئے۔

            یعنی تمھیں اس بات کا بخوبی تجربہ حاصل ہے کہ اہل بغی و فساد ۔یعنی یہی حکام جور ،جب تسلط حاصل کر لیں گے تو تمھارے ساتھ کس طرح پیش آئیں گے ۔گزشتہ تجربات کی روشنی میں تم جانتے ہو کہ تمھیں ان لوگوں سے دور رہنا چاہئے ،اور ان کے مقابلہ میں صف آرائی کرنی چاہئے ۔

            امام علیہ السلام نے اپنے بیان میں مسئلہ امامت کو بڑی صراحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے ،مسئلہ امامت یعنی یہی خلافت و ولایت ،مسلمانوں پر حکومت کرنے اور نظام اسلامی کے نافذ کرنے کا مسئلہ ہے ،یہاں امام سجاد علیہ السلام مسئلہ امامت کتنے واضح انداز سے بیان کرتے ہیں جب کہ اس وقت کے حالات ایسے تھے کہ اس قسم کے مسائل اس صراحت کے ساتھ عوام میں پیش نہیں کئے جا سکتے تھے امام (ع) فرماتے ہیں :

            ”فقد موا امراللّٰہ وطاعتہ وطاعتہ من اوجب اللّٰہ طاعتہ “

            فرمان الٰہی اور اطاعت رب کو مقدم سمجھو اور اس کی اطاعت و پیروی اختیار کرو جس کی اطاعت و پیروی خدانے واجب قرار دی ہے ۔

            امام علیہ السلام نے اس منزل میں امامت کی بنیاد اور فلسفہ کو شیعی نقطہ نظر سے پیش کیا ہے خدا کے بعد وہ کون سے لوگ ہیں جن کی اطاعت کی جانی چاہئے ؟ وہ جن کی اطاعت خدا نے واجب قرار دی ہے اگر لوگ اس وقت اس مسئلہ پر غور فکر سے کام لیتے تو بڑی آسانی سے یہ نتیجہ نکال سکتے تھے کہ عبدالملک کی اطاعت واجب نہیں ہے کیوں کہ خدا کی طرف سے عبد الملک کی اطاعت واجب کئے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،عبد الملک کا اپنے تمام ظلم و جور اور بغی وفساد کی وجہ سے لائق اطاعت نہ ہونا ظاہر ہے ۔ یہاں پہلے تو امام علیہ السلام مسئلہ امامت بیان فرماتے ہیں اس کے بعد صرف ایک شبہ جو مخاطب کے ذہن میں باقی رہ جاتا ہے اس کا بھی ازالہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں :

            ”ولا تقدموا الا مور الواردة علیکم من طاعة الطواغیت و فتنة زھرة الدنیا بین یدی امراللّٰہ و طاعتہ و طاعة اولی الامر منکم “

            اور جو کچھ تم پر طاغوتوں  ——عبد الملک وغیرہ  —— کی طرف سے عائد کیا جاتا ہے اس کو خدا کی اطاعت کے زمرہ میں رکھتے ہوئے خدا کی اطاعت اس کے رسول کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت پر مقدم قرار نہ دو ۔

            اصل میں امام علیہ السلام نے اپنے بیان کے اس ٹکڑے میں بھی مسئلہ امامت بڑی صراحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے ۔

            حضرت (ع) نے گزشتہ بیان میں بھی اور اس بیان میں بھی دو بنیادی اور اساسی مسائل پر توجہ دلائی ہے چنانچہ دونوں بیانات میں مذکورہ تین مراحل تبلیغ میں سے دو مرحلے یعنی لوگوں کے اسلامی افکار و عقائد کی یاد دہانی تاکہ لوگ عقائد اسلامی کا پاس و لحاظ کریں اور ان دینداری کا شوق پیدا ہو سکے اور اس کے بعد دوسرا مسئلہ ” ولایت امر“ یعنی نظام اسلامی میں حکومت و قیادت کا استحقاق واضح کرنا ہے ۔ امام علیہ السلام اس وقت لوگوں میں ان دونوں مسائل کو بیان کرتے ہیں اور درحقیقت اپنے مد نظر نظام علوی یعنی اسلامی و الٰہی نظام کی تبلیغ کرتے ہیں ۔

تنظیم کی ضرورت

            امام علیہ السلام کے یہاں ایک تیسری نوعیت کے حامل بیانات بھی ملتے ہیں جوان دونوں سے بھی زیادہ توجہ کے مستحق ہیں ان بیانات میں حضرت (ع) کھلے طور پر لوگوں کو ایک اسلامی تنطیم کی تشکیل کی طرف متوجہ کرتے ہیں البتہ یہ بات ان ہی لوگوں کے درمیان ہوئی ہے جن کو امام (ع) کا اعتماد حاصل رہا ہے ورنہ اگر عام لوگوں کو اس قسم کی کسی جماعت کی تشکیل کی دعوت دی گئی ہوتی تو اس کا پردہ راز میں رہنا مشکل ہو جاتا اور حضرت (ع)کے لئے بڑی زحمت او رپریشانی کا سبب بن جاتا ۔خوش قسمتی سے ” تحف العقول “ میں اس نوعیت کے بیانات کا بھی ایک نمونہ موجود ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں ۔امام (ع) کا بیان یوں شروع ہوتا ہے ۔

             ”ان علامة الزاھدین فی الدنیا الراغبین فی الآخرة ترکھم کل خلیط و خلیل و رفضھم کل صاحب لایرید ما یریدون “

            دنیا کے وہ زاہدین جو دنیا کے پیچھے نہیں بھاگتے اور اپنی دلچسپی آخرت پر مرکوز رکھتے ہیں ان کی پہچان اور علامت یہ ہے کہ ان کے جو دوست اور ساتھی ہم فکر و ہم عقیدہ بلکہ ہم دل اور ہم مشرب نہیں ہوتے ان کو ترک کردیتے ہیں ۔کیا یہ واضح طور ایک شیعی تنظیم کے تشکیل کی دعوت نہیں ہے ؟!

            اس بیان سے لوگوں کویہ معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ جو ان کے مطالبات و خیالات سے اتفاق نہیں رکھتے اور جن کے احساس و جذبات بالکل مختلف ہیں جو حکومت حق یعنی علوی نظام نہیں چاہتے وہ ان سے کنارہ کش ہو کر ان کے لئے اجنبی اور بیگانہ بن جائیں ۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے یہاں آمد و رفت اور تعلقات ختم کر لیں یہ تعلقات ویسے ہی ہوں جیسے پہلے تھے یعنی ان سے ملیں لیکن احتیاط کے ساتھ ۔

            امام فرماتے ہیں وہ لوگ جو تمھاری فکر و عزائم سے متفق نہ ہوں یا ہدف و مقصد سے ہم آہنگی نہ رکھتے ہوں ان کے ساتھ تمھارے معاملات اور آمد و رفت کسی اجنبی اور بیگانے کے مانند ہونی چاہئے ان سے دوستانہ تعلقات ختم کر دینے چاہئے ۔

            میں سمجھتا ہوں اس طرح کے مزید بیانات خود امام سجاد علیہ السلام کے یہاں نیز دیگر ائمہ علیہم السلام کے یہاں بھی مل جائیں گے بلکہ دیگر ائمہ علیہم السلام کے ارشادات میں یہ چیزیں زیادہ مل جائے گی جہاں تک خود میری نظر ہے اس طرح کے بیانات امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر علیہ السلام نیزان کے بعد کے کم از کم تین چار ائمہ کے یہاں مجھے ملے ہیں حتی کہ امیر المومنین علیہ السلام کے فرمودات میں بھی منظم و مرتب اسلامی جماعت کی تشکیل کی طرف اشارے موجود ہیں ،البتہ یہاں اس تفصیل طلب موضوع پر زیادہ بحث کی کنجائش نہیںہے ۔

            امام زین العابدین علیہ السلام کے کچھ بیانات و ارشادات ایسے بھی ہیں جن میں پیش کئے جانے والے مطالب کلی نوعیت کے حامل ہیں ان میں ان مخصوص پہلوؤں کو مورد بحث نہیں قرار دیا گیا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ۔مثال کے طور پر امام سجاد (ع) کا ایک رسالہ ،حقوق سے متعلق ہے جو در اصل آپ کا ایک نہایت ہی مفصل خط ہے اور ہماری اصطلاح میں اس کو ایک مستقل رسالہ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ،جی ہاں !یہ کتاب جو رسالہ حقوق کے نام سے مشہور ہے حضرت (ع)کا ایک خط ہے جو آپ نے اپنے کسی محب کو لکھا ہے اور اس میں ایک دوسرے کے تئیں انسانی حقوق و ذمہ داری کا ذکر فرمایا ہے ،یقینا یہ ایک رسالہ سے کم نہیں ہے ۔امام علیہ السلام نے اس خط میں مختلف جہتوں سے لوگوں کے ایک دوسرے پر کیا حقوق ہیں ان کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے ۔مثلا خدا کے حقوق ،اعضا ؤجوارح کے حقوق ،کان کے حقوق ،آنکھ کے حقوق ،زبان کے حقوق ،ہاتھ کے حقوق وغیرہ اسی طرح اسلامی معاشرہ پر حاکم فرمانروا کے عوام پر کیا حقوق ہیں ،عوام کے حاکم پر کیاحقوق ہیں ،دوستوں کے حقوق ،پڑسیوں کے حقوق ،اہل خاندان کے حقوق  ——   اور ان تمام حقوق کااس عنوان سے ذکر کیا گیا ہے جس کا ایک اسلامی نظام میں زندگی بسر کرنے والے شخص کو پاس لحا ظ رکھنا ضروری ہے گویا امام علیہ السلام نے بڑے ہی نرم انداز میں حکومت سے مقابلہ آرائی یا آئندہ نظام کا حوالہ دئیے بغیر مستقبل میں قائم کئے جانے والے نظام کی بنیادوں کو بیان کردیا ہے کہ اگر ایک روز خود امام سجاد (ع)کے زمانہ حیات میں (جس کا اگر چہ احتمال نہیں پایا جاتا تھا ) یا آپ کے بعد آنے والے زمانہ میں اسلامی نظام حکومت قائم ہو جائے تو مسلمانوں کے ذہن ایک دوسرے کے تئیں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے پہلے سے مانوس رہیں ۔دوسرے لفظوں میں لوگوں کو آئندہ متوقع اسلامی حکومت کے اسلام سے آشنا بنادینا چاہتے ہیں ۔یہ بھی امام علیہ السلام کے بیانات کی ایک قسم ہے جو بہت ہی زیادہ قابل توجہ ہے ۔

            ایک قسم وہ بھی ہے جس کا آپ صحیفہ سجادیہ میں مشاہدہ فرماتے ہیں ظاہر ہے صحیفہ سجادیہ سے متعلق کسی بحث کے لئے بڑی تفصیل و تشریح کی ضرورت ہے ۔مناسب یہی ہے کہ کوئی اس کتاب پر باقاعدہ کام کرے ۔صحیفہ سجادیہ دعاؤں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس میں ان تمام موضوعات کو مورد سخن قرار دیا گیا ہے جن کی طرف بیدار و ہوشمند زندگی میں انسان متوجہ ہوتا ہے ۔ان دعاؤں میں زیادہ تر انسان کے قلبی روابط اور معنوی ارتباطات پر تکیہ کیا گیا ہے اس میں بے شمار مناجاتیں اور دعائیں مختلف انداز سے معنوی ارتقا ء کی خواہش و آرزو سے مملو ہیں ۔امام علیہ السلام نے ان دعاؤں کے ضمن میں دعاؤں کی ہی زبان سے لوگوں کے ذہنوں میں اسلامی زندگی کا ذوق و شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

            دعا کے ذریعہ جو فائدہ اٹھائے جا سکتے ہیں ان میں ایک وہ بھی ہے جسے میں بارہا ذکر کر چکا ہوں کہ دعا لوگوں کے قلوب میں ایک صحیح و سالم محرک و رجحان پیدا کردیتی  ہے جس وقت آپ کہتے ہیں :

            ”اللہم اجعل عواقب امورنا خیرا “

            ”خدایا ہمارا انجام بخیر فرما “

            ظاہر ہے آپ کے دل میں اس وقت انجام کار کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور آپ عاقبت کی فکر میں لگ جاتے ہیں بعض وقت انسان اپنی عاقبت سے غافل رہ جاتا ہے اپنے حال میں مست زندگی گزارتا رہتا ہے اور اس بات کی فکر نہیں کرتا کہ عاقبت کا تصور انسانی سرنوشت کے تعین میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے ،جب دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے یک بیک ذہن اس طرف متوجہ ہوا اور انجام کار پر نظر رکھنے کا جذبہ بیدار ہوگیا ۔اور پھر آپ اس فکر میں پڑگئے کہ ایسے امور انجام دیں جو آپ (ع) کی عاقبت بہتربنا سکیں ویسے اس کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے یہ ایک دوسری بحث ہے ۔میں تو اس مثال کے ذریعہ صرف اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا کہ دعا کس طرح انسان کے اندر ایک صحیح اور سچا جذبہ بیدار کر دیتی ہے ۔صحیفہ سجادیہ(ع) ایک ایسی کتاب ہے جو شروع سے آخر تک دعاؤں کے جامہ میںایسے ہی اعلیٰ جذبات و افکار سے معمور ہے جن پر انسان اگر غور کرے تو صرف یہی صحیفہ سجادیہ ایک معاشرہ کی اصلاح اور بیداری کے لئے کافی ہے ۔

            فی الحال اس بحث کو ہم یہیں ختم کرتے ہیں البتہ اس کے علاوہ بھی ایسی بہت چھوٹی چھوٹی رواتیں ہیں جو امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں جس کا ایک نمونہ ہم گزشتہ بحث کے ذیل میں پیش کر چکے ہیں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :

            ” اولا حریدع ھٰذہ اللماظة لاھلھا“

            ” لما ظلة “ یعنی کتے کا بچا ہوا کھانا ،ملاحظہ فرمایئے امام علیہ السلام کا یہ بیان کتنا اہم ہے ۔آیا ایک حریت پسند ایسا نہیں ہے جو کتّے کی بچی ہوئی غذا اس کے اہل کے لئے چھوڑدے !کتّے کی بچی ہوئی غذا کا کیا مطلب ہے ؟ یہی دنیوی آرائش ،اونچے اونچے محل ،شان و شوکت اور تڑک بھڑک ۔ وہ چیزیں جن کی طرف تمام کمزور دل افراد عبدالملک کے دور میں کھنچے چلے جارہے تھے ۔اسی چیز کو امام علیہ السلام نے لفظ لماظہ سے تعبیر کیا ہے ۔وہ تمام لوگ جو عبد الملک کی غلامی یا اس کے غلاموں کی غلامی میں مشغول تھے یا جو کچھ بھی ان لوگوں کے ہاتھوں ہو رہا تھا اس سے راضی تھے ،ان سب کا مقصد یہی کتے کی بچی ہوئی غذا کا حاصل کرنا تھا امام علیہ السلام اسی لئے فرماتے ہیں کہ کتے کی بچی ہوئی غذا کے پیچھے نہ بھاگتے پھرو تاکہ مومنین کرام عبدالملک کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر اس کی طرف جذب نہ ہونے پائیں ۔

            اس طرح کے نہایت ہی قابل توجہ انقلابی بیانات امام علیہ السلام کے ارشادات میں بہت ملتے ہیں جن کا ہم آگے چل کر انشاء اللہ ذکر کریں گے ۔اسی فہرت میں حضرت علیہ السلام کے اشعار بھی شامل ہیں حضرت امام سجاد علیہ السلام نے اشعار بھی کہے ہیں اور ان اشعار کے مضامین بھی اسی قسم کے ہیں انشاء اللہ ہم آگے اس سلسلے میں روشنی ڈالیں گے ۔

درباری علماء پر امام سجاد علیہ السلام کی سخت تنقید

            امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات اور طرز زندگی سے متعلق مسائل کی تشریح کرتے ہوئے ہم اپنی بحث کے اس موڑ پر آپہنچے ہیں جہاں زمین ایک ایسی عظیم اسلامی تحریک مہمیزکرنے کے لئے ہموار ہوچکی ہے ۔جس کا حکومت علوی اور حکومت اسلامی پرمنتہی ہوناممکن نظر آنے لگا ہے اس صورت حال کو بطور مختصر ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ امام علیہ السلام کے طریقہ و روش میں کچھ لوگوں کے لئے ( معارف اسلامی کا) بیان و وضاحت کچھ لوگوں کے لئے خود کو منظم و مرتب کرنے کی تلقین اور کچھ افراد وہ بھی تھے جن کے لئے عمل کی راہیں معین و مشخص ہو جاتی تھیں یعنی اب تک کے معروضات کی روشنی میں امام سجاد علیہ السلام کی تصویر کاجو خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے اس کے تحت حضرت (ع) اپنے تیس ،پینتیس سال اس کوشش میں صرف کردیتے ہیں کہ عالم اسلام کے شدت کے ساتھ برگشتہ ماحول کو ایک ایسی سمت کی طرف لے جائیں کہ خود آپ (ع)کے لئے یا آپ (ع)کے جانشینوں کے لئے اس بنیادی ترین جد و جہد اور فعالیت کے لئے موقع فراہم ہو سکے جس کے تحت ایک اسلامی معاشرہ اور الٰہی حکومت قائم ہو سکے ۔چنانچہ اگر امام سجاد علیہ السلام کی ۲۵سالہ سعی و کوشش ،ائمہ علیہم السلام کی زندگی سے جد اکر لی جائے تو ہرگز وہ صورت حال تصور نہیں کی جاسکتی جس کے نتیجہ میں امام صادق علیہ السلام کو اولا حکومت بنی امیہ اور پھر حکومت بنی عباس کے خلاف اتنی کھلی ہوئی واضح پالیسی اپنانے کا موقع ہاتھ آیا ۔

            ایک اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لئے فکری و ذہنی طور پر زمین ہموار کرنا تمام چیزوں سے زیادہ لازم و ضروری ہے ۔اور یہ ذہنی و فکری آمدگی ،اس وقت کے ماحول اور حالات میں جس سے عالم اسلام دو چار تھا ،وہ کام تھا جو یقینا ایک طویل مدت کا طالب ہے اور یہی وہ کام ہے جو امام زین العابدین علیہ السلام نے تمام تر زحمت اور صعوبت و مصیبت کے باوجود اپنے ذمہ لیا تھا ۔

            اس عظیم ذمہ داری کے دوش بدوش امام سجاد علیہ السلام کی زندگی میں ایک اور تلاش و جستجو جلوہ گر نظر آتی ہے جو در اصل سابق کی تیار کردہ زمین کو مزید ہموار کرنے کی طرف امام (ع) کے ایک اور اقدام کی مظہر ہے اس طرح کی کوششوں کا ایک بڑا حصہ سیاسی نوعیت کا حامل ہے اور بعض اوقات بے حد سخت شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کا ایک نمونہ امام علیہ السلام کا حکومت و قت سے وابستہ اور ان کے کار گزار محدثوں پر کڑی تنقید ہے ۔ موجو دہ بحث میں اسی نکتہ پر روشنی ڈالنا مقصود ہے ۔

            آئمہ علیہم السلام کی زندگی سے متعلق ولولہ انگیز ترین بحثوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلامی معاشرہ کی فکر و ثقافت کو رنگ عطا کرنے والے افراد یعنی علماء (۱)   و شعراء کے ساتھ ان بزرگواروں کا برتاؤ کیسا رہا ہے ؟ اصل میں عوام کی فکری و ذہنی تربیت و رہبری ان ہی لوگوں کے ہاتھ میں تھی ،خلفاء بنی امیہ و بنی عباس معاشرہ کو جس رخ پر لے جانا پسند کرتے تھے یہ لوگ عوام کو اسی راہ پر لگا دیتے تھے گویا خلفاء کی اطاعت اور تسلیم کا ماحول پیدا کرنا ان ہی  حضرات کا کام تھا چنانچہ ایسے افراد کے ساتھ کیا روش اور طرز اپنایا جائے دیگر ائمہ علیہم السلام کی طرح امام سجادعلیہ السلام کی زندگی کا بھی ایک بڑا ہی اہم اور قابل توجہ پہلو ہے۔

(۱)۔یہاں علماء سے مراد اس زمانہ کے علمائے دین ہیں جن میں محدثین ،مفسرین قراء ، قاضی صاحبان اور زاہد منشی سب ہی شامل تھے ۔

حدیث گڑھنا ظالموں کی ایک ضرورت

            جیسا کہ ہم جانتے ہیں خلفائے ظلم و جور کے سامنے ،اسلام کا عقیدہ رکھنے والوں پر اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارا ہی نہیں تھا کہ وہ جو کچھ بھی انجام دینا چاہتے ہیں اس کی طرف لوگوں کے قلبی ایمان کو جذب کریں کیوں کہ اس وقت زمانہ صدر اسلام گزرے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے لوگوں کے دلوں میں اسلام کا عقیدہ و ایمان باقی تھا اگر لوگوں کو یقین پیدا ہو جاتا کہ یہ جو ظالم کی انھوں نے بیعت کی ہے درست نہیں ہے یا یہ خلیفہ ٴ رسول اللہ (ص) کی خلافت کے لائق نہیں ہے یقینا اپنے آپ کو ان کے حوالے نہ کرتے ۔اور اگر یہ بات ہم سب کے لئے قبول نہ کریں تو بھی اسلامی معاشرے میں یقینا ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے تھے جو پورے ایمان قلبی کے ساتھ خلفاء کے دربار کی غیر اسلامی صورت حال کو تحمل کر رہے تھے یعنی ان کا خیال تھا کہ یہی اسلامی شان ہے ۔یہی وجہ تھی کہ خلفائے جور نے اپنے دور کے زیادہ سے زیادہ دینی علماء اور محدثین کے خدمات سے استفادہ کیا اور ان لوگوں کو جو کچھ وہ چاہتے تھے اس کے لئے آمادہ کیا اور پھر ان سے کہا کہ ان کی مرضی کے مطابق خود پیغمبر اسلام (ص) اور ان کے بزرگ اصحاب سے جعلی حدیثیں روایت کریں ۔

حدیث گڑھنے کے کچھ نمونے

            اس سلسلہ میں مثالیں موجود ہیں جو انسان کو لرزا دیتی ہیں ،نمونہ کے طور پر ہم یہ حدیث نقل کرتے ہیں -:

            معاویہ کے زمانہ میں ایک شخص کی کعب الاحبار  (۲) سے مڈبھیڑ ہو گئی ، کعب الاحبار چوں کہ معاویہ نیز دیگر شاہی امراء کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا تھا ،اس لئے اس شخص سے سوال کیا ۔کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟

            اہل شام سے ہوں ۔

            شاید تم ان لشکریوں میں سے ہو جن کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کتاب کے وارد بہشت ہوں گے !۔

            وہ کون لوگ ہیں ؟

            وہ سب اہل دمشق ہیں ۔

            نہیں میں اہل دمشق نہیں ہوں ۔

            پس شاید تو ان لشکریوں میں سے ہے کہ خدا جن کی طرف ہر روز دو بار نگاہ (لطف) کرتا ہے !!۔

            وہ کون لوگ ہیں ؟

            اہل فلسطین ۔

            اگر وہ آدمی کہہ دیتا میں اہل فلسطین سے نہیں ہوں ،تو شاید کعب الاحبار ایک ایک کرکے بعلبک طرابلس اور شام کے بقیہ تمام شہروں کے ساکنین کے لئے حدیثیں نقل کرتا رہتا اور ثابت کر دیتا کہ یہ سب نہایت ہی صالح و شائستہ افراد ہیں ! سب کے سب اہل بہشت ہیں !!کعب الاحبار یہ حدیثیں یا تو شامی امراء کی خوشامد اور چاپلوسی میں گڑھا کرتا تھا تاکہ وہ ان سے زیادہ سے زیادہ انعام و مدد حاصل کرکے ان کا محبوب و مقرب بن سکے یا یہ کہ اس کے اس عمل کی جڑیں اس کی اسلام دشمنی میں تلاش کرنی پڑیں گی جس کا مقصد احادیث اسلامی خلط ملط کرکے اقوال پیغمبر اسلام (ص) کو مشتبہ اور ناقابل شناخت بنانا رہا ہوگا۔

            تذکرہ اور رجال و حدیث کی کتابوں میں اس قسم کے بہت سے واقعات موجود ہیں ۔ ان ہی میں سے ایک اس امیر کی داستان ہے جو اپنے فرزند کو ایک مکتب میں داخل کرتا ہے اور وہاںمہتمم متکب اس کی پٹائی کر دیتا ہے ،لڑکا روتا دھوتا گھر پہنچ کر جب باپ کو اپنی پٹائی کی خبر دیتا ہے تو باپ غصہ میں بپھرا ہو ا کہتا ہے : ابھی جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اس مہتمم مکتب کے خلاف ایک حدیث وضع کرو تاکہ مکتب کا مہتمم دوبارہ اس قسم کی غلطی کرنے کی جراٴت نہ کرے !!

            اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے لئے حدیث گڑھ لینا اس قدر آسان ہو چکا تھا کہ بچوں کی آنکھوں سے ڈھلنے والے آنسوؤں کے قطرے ،خود مہتمم مکتب یا اس کے وطن و شہر کے خلاف ایک حدیث ڈھالنے کے لئے کافی ہوتے تھے ،بہر صورت یہی حالات اس بات کا سبب بنے کہ دنیا ئے اسلام میں ہی اسلام سے برگشتہ ایک خود ساختہ مخلوط و مجعول ذہنیت اور تہذیب و ثقافت پھلنے پھولنے لگی ،اور اس غلط ذہنیت کو جنم دینے والے وہی علماء اور محدثین تھے جو اپنے زمانہ کے صاحبان اقتدار و منصب کے ہاتھوں بکے ہوئے تھے چنانچہ ،ایسے سخت ترین حالات میں اس گروہ سے ٹکر لینا بہت ہی اہم اور فیصلہ کن ہے ۔